Emotional Kalam e Iqbal -Dunya Ki Mehfilon Se Ukta Gaya Hun Ya Rab | Saad Ahmad | JDMukhtar.Writes
Emotional Kalam e Iqbal -Dunya Ki Mehfilon Se Ukta Gaya Hun Ya Rab | Saad Ahmad | JDMukhtar.Writes دُنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب! کیا لُطف انجمن کا جب دل ہی بُجھ گیا ہو شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا ایسا سکُوت جس پر تقریر بھی فدا ہو مرتا ہوں خامشی پر، یہ آرزو ہے میری دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو آزاد فکر سے ہوں، عُزلت میں دن گزاروں دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو ہو ہاتھ کا سَرھانا، سبزے کا ہو بچھونا شرمائے جس سے جلوت، خلوت میں وہ ادا ہو مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بُلبل ننھّے سے دل میں اُس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو صف باندھے دونوں جانب بُوٹے ہرے ہرے ہوں ندّی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو ہو دل فریب ایسا کُہسار کا نظارہ پانی بھی موج بن کر، اُٹھ اُٹھ کے دیکھتا ہو راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم اُمّید اُن کی میرا ٹُوٹا ہوا دِیا ہو بجلی چمک کے اُن کو کُٹیا مری دکھا دے جب آسماں پہ ہر سُو بادل گھِرا ہوا ہو پچھلے پہر کی کوئل، وہ صبح کی مؤذِّن مَیں اُس کا ہم نوا ہوں، وہ میری ہم نوا ہو کانوں پہ ہو نہ میرے دَیر و حرم کا احساں روزن ہی جھونپڑی کا مجھ ک...